مقدمہ آخری مراحل میں داخل، مزید چند گواہوں کی گواہیاں باقی، گلزار اعظمی
ممبئی2؍اپریل (ایس او نیوز؍پریس ریلیز) ناندیڑ اسلحہ ضبطی معاملے میں آج ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت میں گواہی کے لیئے پیش ہوئے چیف تحقیقاتی افسر کامت سے دفاعی وکلاء نے جرح کی جس کے دوران اس پر الزام عائد کیاکہ اس نے ملزمین پر یو اے پی اے قانون کے اطلاق کے لیئے اعلی افسران سے جھوٹے ثبوت و شواہد کی روشنی میں اجازت نامہ حاصل کیا تھا نیز اس نے قومی تفتیشی ایجنسیNIA کو اس مقدمہ کی نوعیت کے تعلق خط و کتابت نہیں کی ورنہ یہ مقدمہ اے ٹی ایس کی بجائے این آئی اے کے سپرد پہلے ہی کردیا جاتا ۔
خصوصی جج کوٹھلیکر کے روبرو گواہی دیتے ہوئے سبکدوش اے سی پی کامت نے دفاعی وکلاء عبدالواہاب خان اور شریف شیخ کی جرح کے دوران اعتراف کیا کہ اس کی تفتیش میں اسے ڈائرکٹ کوئی بھی ثبوت ہاتھ نہیں لگا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ کہ تمام ملزمین ایک ساتھ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے حالانکہ فرداً فرداً ملزمین سے تفتیش کرنے کے بعد یہ واضح ہوا کہ ملزمین مبینہ طور پر مراٹھواڑہ علاقے میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینا چاہتے تھے ۔
خصوصی این آئی اے وکیل پرکاش شیٹی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہو ئے گواہ استغاثہ نے عدالت کو اس معاملے میں اس کے ذریعہ کی گئی تفتیش پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔
آج کی عدالتی کارروائی کے بعد ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ تفتیشی افسر کی گواہی کے بعد اب چند ہی سرکاری گواہان کی گواہی باقی رہے گئی ہے جس میں ایک دیگرچیف تحقیقاتی افسر بیندرے شامل ہیں جس کی گواہی نہایت اہمیت کی حامل ہے ، عدالت نے بیندرے کو گواہی کے لیئے ۹؍ اپریل کو طلب کیا ہے جس سے جمعیۃ علماء کے وکلاء جرح کریں گے۔
واضح رہے کہ ریاستی انسداد دہشت گرد دستہ نے ملزمین محمد مزمل عبدالغنی، محمد صادق محمد فاروق، محمد الیاس محمد اکبر، محمد عرفان محمد غوث کو ناندیڑ شہر و اطراف سے گرفتار کیا تھا اور ان پر الزام لگایا تھا کہ وہ بیرون ممالک میں مقیم لشکر طیبہ اور حرکت المجاہدین نامی تنظیموں سے بذریعہ ای میل اور ٹیلی فون سے رابطہ میں تھے اور ان کے پاس سے پولس نے دو ریوالور بھی ضبط کی تھی نیز ان کے نشانے پر ایم پی ،ایم ایل اے اور صحافی حضرات تھے۔